ایمان والو الله سے ڈرو جو ڈرنے کا حق ہےاور خبردار اس وقت تک نہ مرنا جب تک مسلمان نہ ہو جاؤ۔ سورہ آل عمران آیت۱۰۲
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں
ایک یہودی نوجوان اکثر رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا، پیغمبر اکرم بھی اس کی آمد و رفت پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تھے بلکہ بعض اوقات تو اسے کسی کام سے بھیج دیتے تھے، یا اس کے ہاتھوں قوم یہود کو خط بھیج دیتے۔
ایک مرتبہ وہ چند روز تک نہ آیا، پیغمبر اکرم ص نے اس کے بارے میں سوال کیا، تو ایک شخص نے کہا: میں نے اس کو بہت شدید بیماری کی حالت میں دیکھا ہے شاید یہ اس کا آخری دن ہو، یہ سن کر پیغمبر اکرم چند اصحاب کے ساتھ اسکی عیادت کے لئے تشریف لےگئے، وہ کوئی گفتگو نہیں کر سکتا تھا لیکن جب آنحضور وہاں پہنچے تو وہ آپ کو جواب دینے لگا چنانچہ رسول اکرم ص نے اس جوان کو آواز دی، اس جوان نے آنکھیں کھولیں اور کہا۔ لبیک یا ابالقاسم! آنحضرت نے فرمایا کہو: “ اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وانی رسول اللّٰہ”۔
جیسے ہی اس نوجوان کی نظر اپنے باپ کی ترچھی نگاہوں پر پڑی، وہ کچھ نہ کر سکا، پیغمبر اکرم نے اس کو دوبارہ شھادتین کی دعوت دی، اس مرتبہ بھی اپنے باپ کی ترچھی نگاہوں کو دیکھ کر خاموش رہا، رسول خدا نے تیسری مرتبہ اسے یہودیت سے توبہ کرنے اور شھادتین قبول کرنے کی دعوت دی، اس جوان نے ایک بار پھر اپنے باپ کے چہرے پر نظر ڈالی، اس وقت پیغمبر اکرم نے فرمایا: اگر تیری مرضی ہے تو شھادتین قبول کر لے ورنہ خاموش رہ، اس وقت جوان نے اپنے باپ پر توجہ کئے بغیر اپنی مرضی سے شھادتین کہہ دیں اور اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ پیغمبر اکرم نے اس جوان کے باپ سے فرمایا۔ اس جوان کے لاشے کو ہمارے حوالے کر دو، اور پھر اپنے اصحاب سے فرمایا۔ اسے غسل دو، کفن پہناؤ اور میرے پاس لاؤ تاکہ میں اس پر نماز پڑھوں، اس کے بعد اس یہودی کے گھر سے نکل آئے۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کہتے جا رہے تھے: خدایا تیرا شکر ہے کہ آج تو نے میرے ذریعے ایک نوجوان کو آتش جہنم سے نجات دیدی۔
حوالہ: بحار الانوار، جلد ۶، صفحہ ۲۶
No comments:
Post a Comment