ہاشم مرقال کہتے ہیں:
جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کی نصرت کیلئے چند قاریان قرآن شریک تھے۔ حاکم شام کی طرف سے طائفہ “غسان” کا ایک جوان میدان میں آیا، اس نے رجز پڑھا اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں جسارت کرتے ہوئے مقابلہ کیلئے للکارہ، مجھے بہت زیادہ غصہ آیا کہ حاکم شام کے غلط پرپیگنڈے نے اس طرح کے لوگوں کو گمراہ کر رکھا ہے، واقعاً میرا دل کباب ہو گیا، میں نے میدان کا رخ کیا، اور اس غافل جوان سے کہا: اے جوان! جو کچھ بھی تمہاری زبان سے نکلتا ہے، خدا کی بارگاہ میں اس کا حساب و کتاب ہوگا، اگر خداوند عالم نے تجھ سے پوچھ لیا:
علی بن ابی طالب علیہ السلام سے جنگ کیوں کی؟ تو کیا جواب دے گا؟
چنانچہ اس جوان نے کہا: میں خداکی بارگاہ میں دلیل شرعی رکھتا ہوں، کیونکہ میری علی ابن ابی طالب سے جنگ بے نمازی ہونے کیوجہ سے ہے
ہاشم مرقال کہتے ہیں: میں نے اس کے سامنے حقیقت بیان کی، حاکم شام کی مکاری اور چال بازیوں کو واضح کیا۔ جیسے ہی اس نے یہ سب کچھ سنا، اس نے خدا کی بارگاہ میں استغفار کیا، اور توبہ کی اور حق کا دفاع کرنے کیلئے حاکم شام کے لشکر سے جنگ کے لئے نکل گیا۔
حوالہ۔ توبہ آغوش رحمت ص۱۴۰
#jang-e-siffeen #Imam_Ali_as
Subscribe our Youtube channel for Majalis Videos
Subscribe our Youtube channel for Majalis Videos
No comments:
Post a Comment