علی علیہ السلام اور ان کے شیعہ اور محب

:جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ روایت نقل کرتے ہیں

جس وقت ہم پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس تھے تو آنحضرت نے حضرت علی علیہ السلام کی طرف توجہ کی اور فرمایا: اے ابوالحسن یہ جبرئیل ہیں فرما رہے ہیں کہ بے شک خدا تعالٰی نے آپ کے شیعوں اور محبوں کو سات خصوصیات عطا کی ہیں۔
١.  موت کے وقت آسانی
٢. وحشت کے وقت (قبر میں) اُنس و محبت
٣. ظلمت و تاریکی(قبر) میں نور
٤. نزع کے وقت امن
٥. میزان کے وقت عدالت
٦. پلِ صراط سے عبور
٧. لوگوں سے پہلے جنت میں داخلہ اس حال میں کہ ان کا نور ان کے سامنے ہوگا۔ 

:دوسری روایت میں ذکر ہے کہ پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا

میری اور میرے اہل بیت علیہم السلام کی محبت سات اہم مقامات پر کام آئے گی
١. موت کے وقت
٢. قبر میں
٣. قبر سے اٹھ جانے کے وقت
٤. جب نامہ اعمال ہاتھوں میں دئیے جائیں گے
٥. حساب کے وقت
٦. جب نامۂ اعمال میزان میں تولے جائیں گے
٧. پلِ صراط سے عبور کرتے وقت
حوالہ: بحار الانوار جلد۲۷، ص١٥٦
#Hadith #fazail-e-Ahlebait #Muhabbat-e-Ali(as)

ایک یہودی نوجوان کا اسلام قبول کرنا

ایمان والو الله سے ڈرو جو ڈرنے کا حق ہےاور خبردار اس وقت تک نہ مرنا جب تک مسلمان نہ ہو جاؤ۔ سورہ آل عمران آیت۱۰۲
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں
ایک یہودی نوجوان اکثر رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا، پیغمبر اکرم بھی اس کی آمد و رفت پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تھے بلکہ بعض اوقات تو اسے کسی کام سے بھیج دیتے تھے، یا اس کے ہاتھوں قوم یہود کو خط بھیج دیتے۔ 
ایک مرتبہ وہ چند روز تک نہ آیا، پیغمبر اکرم ص نے اس کے بارے میں سوال کیا، تو ایک شخص نے کہا: میں نے اس کو بہت شدید بیماری کی حالت میں دیکھا ہے شاید یہ اس کا آخری دن ہو، یہ سن کر پیغمبر اکرم چند اصحاب کے ساتھ اسکی عیادت کے لئے تشریف لےگئے، وہ کوئی گفتگو نہیں کر سکتا تھا لیکن جب آنحضور وہاں پہنچے تو وہ آپ کو جواب دینے لگا چنانچہ رسول اکرم ص نے اس جوان کو آواز دی، اس جوان نے آنکھیں کھولیں اور کہا۔ لبیک یا ابالقاسم! آنحضرت نے فرمایا کہو: “ اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وانی رسول اللّٰہ”۔
جیسے ہی اس نوجوان کی نظر اپنے باپ کی ترچھی نگاہوں پر پڑی، وہ کچھ نہ کر سکا، پیغمبر اکرم نے اس کو دوبارہ شھادتین کی دعوت دی، اس مرتبہ بھی اپنے باپ کی ترچھی نگاہوں کو دیکھ کر خاموش رہا، رسول خدا نے تیسری مرتبہ اسے یہودیت سے توبہ کرنے اور شھادتین قبول کرنے کی دعوت دی، اس جوان نے ایک بار پھر اپنے باپ کے چہرے پر نظر ڈالی، اس وقت پیغمبر اکرم نے فرمایا: اگر تیری مرضی ہے تو شھادتین قبول کر لے ورنہ خاموش رہ، اس وقت جوان نے اپنے باپ پر توجہ کئے بغیر اپنی مرضی سے شھادتین کہہ دیں اور اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ پیغمبر اکرم نے اس جوان کے باپ سے فرمایا۔ اس جوان کے لاشے کو ہمارے حوالے کر دو، اور پھر اپنے اصحاب سے فرمایا۔ اسے غسل دو، کفن پہناؤ اور میرے پاس لاؤ تاکہ میں اس پر نماز پڑھوں، اس کے بعد اس یہودی کے گھر سے نکل آئے۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کہتے جا رہے تھے: خدایا تیرا شکر ہے کہ آج تو نے میرے ذریعے ایک نوجوان کو آتش جہنم سے نجات دیدی۔ 
حوالہ: بحار الانوار، جلد ۶، صفحہ ۲۶ 


جنگ صفین میں ایک نوجوان کا واقعہ

ہاشم مرقال کہتے ہیں:
جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کی نصرت کیلئے چند قاریان قرآن شریک تھے۔ حاکم شام کی طرف سے طائفہ “غسان” کا ایک جوان میدان میں آیا، اس نے رجز پڑھا اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں جسارت کرتے ہوئے مقابلہ کیلئے للکارہ، مجھے بہت زیادہ غصہ آیا کہ حاکم شام کے غلط پرپیگنڈے نے اس طرح کے لوگوں کو گمراہ کر رکھا ہے، واقعاً میرا دل کباب ہو گیا، میں نے میدان کا رخ کیا، اور اس غافل جوان سے کہا: اے جوان! جو کچھ بھی تمہاری زبان سے نکلتا ہے، خدا کی بارگاہ میں اس کا حساب و کتاب ہوگا، اگر خداوند عالم نے تجھ سے پوچھ لیا: 
علی بن ابی طالب علیہ السلام سے جنگ کیوں کی؟ تو کیا جواب دے گا؟
 چنانچہ اس جوان نے کہا: میں خداکی بارگاہ میں دلیل شرعی رکھتا ہوں، کیونکہ میری علی ابن ابی طالب سے جنگ بے نمازی ہونے کیوجہ سے ہے
ہاشم مرقال کہتے ہیں: میں نے اس کے سامنے حقیقت بیان کی، حاکم شام کی مکاری اور چال بازیوں کو واضح کیا۔ جیسے ہی اس نے یہ سب کچھ سنا، اس نے خدا کی بارگاہ میں استغفار کیا، اور توبہ کی اور حق کا دفاع کرنے کیلئے حاکم شام کے لشکر سے جنگ کے لئے نکل گیا۔ 
حوالہ۔ توبہ آغوش رحمت ص۱۴۰