حُکم یہ تھا کہ ابوذر کو الوداع کوئی نہ کرے مگر علی علیہ السلام کہاں رُکنے والے تھے اپنے عاشق سے آخری ملاقات کو چل دئیے ساتھ میں حسنین کریمین اور چند اصحاب کو بھی لے گئے۔
مروان بھی کہاں باز آنے والا تھا شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں علی علیہ السلام کو روکنے چل دیا۔ جلال علوی نے وہ کی کہ روتا ہوا اپنے آقا کو شکایت لگانے پہنچ گیا۔
ادھر علی ابوذر کو رُخصت کر رہے ہیں کیا قیامت کا منظر ہوگا کہ ابوذر صحرائے ربذہ میں اپنی آخری آرام گاہ کیطرف گامزن ہیں۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام حضرت ابوذر غفاری رض سے مخاطب ہوئے۔
"اے ابوذر! تمہارا غم و غصہ خدا کی خاطر تھا، لہذا اسی ذات پر امید رکھو۔ یہ لوگ اپنی دنیا میں تم سے خوفزدہ ہیں، اور تم کو اپنے دین کی خاطر ان سے ڈر ہے۔ لہذا جس چیز کی خاطر وہ تم سے ڈرتے ہیں، وہ چیز ان کے لئے چھوڑ دو۔ اور جس وجہ سے تم ان سے ڈرتے ہو اس کو ان سے دور لے جاؤ۔ تم نے جس کام سے انکو روکا ہے، انکو اسکی کتنی ضرورت ہے، اور تم کتنے بے نیاز ہو اس سے جس سے وہ تمہیں روکتے ہیں۔ تمہیں بہت جلد پتا چل جائے گا کہ کل اس کا نفع کس کو ملے گا، اور جس کو اس کا زیادہ نقصان ملے گا، وہ کون ہو گا۔ اگر آسمانوں اور زمین کو کسی انسان کے لئے بند کیا جائے، لیکن وہ خدا سے ڈرے، اس کے لئے وہ دونوں کھلے ہیں۔ خدا خود تمہارا مونس اور مددگار ہے، اور سوائے باطل کے تمہیں نہیں ڈرا سکے گا۔ اگر تم ان کی دنیا کو قبول کرتے وہ تم سے دوستی کرتے، اور اگر ان کی خاطر قرض لیتے تو ان کو سکون ملتا۔"
نہج البلاغہ
5ذوالحج شھادت حضرت ابوذر غفاری رض
توصیف اسلم الحسینی امرہ کلاں
No comments:
Post a Comment